Sunday, 14 November 2021

دل بیتاب جب مچلتا ہے

دلِ بے تاب جب مچلتا ہے

سلسلہ دیر تک یہ چلتا ہے

ہے گھڑی دو گھڑی ہنسی لب پر

درد لیکن جگر میں پلتا ہے

جان من! آ کہ جان آ جائے

وقتِ رخصت ہے دم نکلتا ہے

شہر در شہر ہے وہ تاریکی

اب تو دن میں چراغ جلتا ہے

یوں نہیں شعر بحر میں ڈھلتا

اندر اندر کوئی پگھلتا ہے

شاعر دل نواز بدر ہے تُو

تیری باتوں سے دل بہلتا ہے


بدر محمدی

No comments:

Post a Comment