Tuesday, 8 June 2021

بارشوں کے موسم کی ایک وہ کہانی تھی

 اف وہ بھیگتا لمحہ


بارشوں کے موسم کی

ایک وہ کہانی تھی

ساتھ میرے ہمدم تھا

اور اس کے رانی تھی

ایک دن اچانک سے

خوفناک طوفاں میں

رہ بھٹک گئے تھے وہ

تب اماں ملی ان کو

اک درخت کے نیچے

بارشوں کی بوندوں نے

ایسا تن بھگویا تھا

دونوں جل گئے اس دم

کھو گئے اسی لمحہ

پانے ایک دوجے کو

بارشوں کے موسم میں

اف وہ بھیگتا لمحہ

جب کہ چاند بانہوں میں

بس اتر ہی آیا تھا

جب جواں امنگوں کو

مل گئے تھے بال وپر

جب جواں دھڑکتے دل

کانپے تھر تھرائے تھے

جیسے لو لرزتی ہو

اف وہ بھیگتا لمحہ

اف وہ بھیگتا لمحہ

جب کہ اس نے چہرے سے

زلفوں کو ہٹایا تھا

کیا سکوں ملا مجھ کو

کیا قرار آیا تھا

اف وہ بھیگتا لمحہ

جب کہ اس نے ہاتھوں میں

میرے ہاتھ تھامے تھے

بھیگنے سے بچنے کے

سو جتن کئے لیکن

بھیگ ہی گئے دونوں

خوشنما مناظر میں

خوشنما سا وہ لمحہ

یاد جب بھی آتا ہے

پلکیں بھیگ جاتی ہیں

بارشوں کے موسم کی

یہ بھی اک کہانی ہے

ساتھ اب نہیں اس کا

ساتھ اس کی یادیں ہیں

اف وہ بھیگتا لمحہ

کیسے تن جلاتا تھا

دو جواں دلوں کی پھر

آرزوئے تشنہ کو

کیسے ورغلاتا تھا

اف وہ بھیگتا لمحہ

اف وہ بھیگتا لمحہ

ذہن کے دریچے میں

پھر سے آ گیا کیوں کر

اب کہاں وہ ساون ہے

اور کہاں وہ ساجن ہے

پر یہ بھیگتا لمحہ

ویسے ہی کا ویسا ہے


سعدیہ صدف

No comments:

Post a Comment