اف وہ بھیگتا لمحہ
بارشوں کے موسم کی
ایک وہ کہانی تھی
ساتھ میرے ہمدم تھا
اور اس کے رانی تھی
ایک دن اچانک سے
خوفناک طوفاں میں
رہ بھٹک گئے تھے وہ
تب اماں ملی ان کو
اک درخت کے نیچے
بارشوں کی بوندوں نے
ایسا تن بھگویا تھا
دونوں جل گئے اس دم
کھو گئے اسی لمحہ
پانے ایک دوجے کو
بارشوں کے موسم میں
اف وہ بھیگتا لمحہ
جب کہ چاند بانہوں میں
بس اتر ہی آیا تھا
جب جواں امنگوں کو
مل گئے تھے بال وپر
جب جواں دھڑکتے دل
کانپے تھر تھرائے تھے
جیسے لو لرزتی ہو
اف وہ بھیگتا لمحہ
اف وہ بھیگتا لمحہ
جب کہ اس نے چہرے سے
زلفوں کو ہٹایا تھا
کیا سکوں ملا مجھ کو
کیا قرار آیا تھا
اف وہ بھیگتا لمحہ
جب کہ اس نے ہاتھوں میں
میرے ہاتھ تھامے تھے
بھیگنے سے بچنے کے
سو جتن کئے لیکن
بھیگ ہی گئے دونوں
خوشنما مناظر میں
خوشنما سا وہ لمحہ
یاد جب بھی آتا ہے
پلکیں بھیگ جاتی ہیں
بارشوں کے موسم کی
یہ بھی اک کہانی ہے
ساتھ اب نہیں اس کا
ساتھ اس کی یادیں ہیں
اف وہ بھیگتا لمحہ
کیسے تن جلاتا تھا
دو جواں دلوں کی پھر
آرزوئے تشنہ کو
کیسے ورغلاتا تھا
اف وہ بھیگتا لمحہ
اف وہ بھیگتا لمحہ
ذہن کے دریچے میں
پھر سے آ گیا کیوں کر
اب کہاں وہ ساون ہے
اور کہاں وہ ساجن ہے
پر یہ بھیگتا لمحہ
ویسے ہی کا ویسا ہے
سعدیہ صدف
No comments:
Post a Comment