ہماری طرح محبت کا فلسفہ سمجھے
نئے سے کون پرانے کو دیرپا سمجھے
اسے کہو جو بُلاتا ہے گہرے پانی میں
کنارے سے بندھی کشتی کا مسئلہ سمجھے
مجھے پتا ہے کے کس در کو کھٹکھٹانا ہے
میری طلب کو زمانہ میری عطا سمجھے
ہمارا کیا ہے ہمیں تو فرار چاہئے تھا
دراڑ تھی جسے ہم بابِ نیم وا سمجھے
بچھڑنے پر مجھے مجبور کر دیا گیا تھا
یہ اور بات کوئی اس کو فیصلہ سمجھے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment