منظر بنا ہوا ہوں نظارے کے ساتھ میں
کتنی نظر ملاؤں ستارے کے ساتھ میں
دریا سے ایک گھونٹ اٹھانے کے واسطے
بھاگا ہوں کتنی دور کنارے کے ساتھ میں
اک روز اپنے دل سے جھٹک دوں گا تیرا عشق
دنیا کما کے جا بھی چکے سارے رفتگاں
زندہ ہوں زندگی کے خسارے کے ساتھ میں
کوزہ گری کی یار کوئی انتہا بھی ہے؟
کیا کیا بناؤں چاک پہ گارے کے ساتھ میں
میرے بدن کی آگ الاؤ میں دیکھنا
جلتا نہیں ہوں یار شرارے کے ساتھ میں
خالد وہی ہے مالک و مختارِ کائنات
زندہ ہوں جس کے ایک اشارے کے ساتھ میں
خالد سجاد احمد
No comments:
Post a Comment