Friday, 4 September 2020

منظر بنا ہوا ہوں نظارے کے ساتھ میں

منظر بنا ہوا ہوں نظارے کے ساتھ میں
کتنی نظر ملاؤں ستارے کے ساتھ میں
دریا سے ایک گھونٹ اٹھانے کے واسطے
بھاگا ہوں کتنی دور کنارے کے ساتھ میں
اک روز اپنے دل سے جھٹک دوں گا تیرا عشق
کھیلوں گا کتنی دیر شرارے کے ساتھ میں
دنیا کما کے جا بھی چکے سارے رفتگاں
زندہ ہوں زندگی کے خسارے کے ساتھ میں
کوزہ گری کی یار کوئی انتہا بھی ہے؟
کیا کیا بناؤں چاک پہ گارے کے ساتھ میں
میرے بدن کی آگ الاؤ میں دیکھنا
جلتا نہیں ہوں یار شرارے کے ساتھ میں
خالد وہی ہے مالک و مختارِ کائنات
زندہ ہوں جس کے ایک اشارے کے ساتھ میں

خالد سجاد احمد

No comments:

Post a Comment