Friday, 4 September 2020

ہم بھی کیا لوگ تھے

ہم بھی کیا لوگ تھے

ہم نے جانا اسے
اس نے جانا ہمیں
جان پہچان کر اجنبی ہو گئے
آنکھ کی بند مٹھی میں جو خواب تھے
بند مٹھی کے اندر سسکتے رہے

خواہشوں کی رگوں میں لہو رک گیا
دھڑکنیں اپنے سُر تال سب بھول کر
بے ہنر نغمہ خواں کی صدا بن گئیں
جم گئیں
بانسری کے لبِ خشک پر
پِپڑیاں جم گئیں
گیت کے بول ہونٹوں سے گرنے لگے
خامشی چھا گئی
پاؤں بوجھل ہوۓ
جو بھی زادِ سفر تھا وہ لُٹتا رہا
اپنی آنکھوں سے برسات ہوتی رہی
درد بڑھتا رہا
درد سہتے رہے
ہم بھی کیا لوگ تھے
کیا سے کیا ہو گئے
جان پہچان کر اجنبی ہو گئے

یوسف خالد

No comments:

Post a Comment