ہم بھی کیا لوگ تھے
ہم نے جانا اسے
اس نے جانا ہمیں
جان پہچان کر اجنبی ہو گئے
آنکھ کی بند مٹھی میں جو خواب تھے
بند مٹھی کے اندر سسکتے رہے
خواہشوں کی رگوں میں لہو رک گیا
دھڑکنیں اپنے سُر تال سب بھول کر
بے ہنر نغمہ خواں کی صدا بن گئیں
جم گئیں
بانسری کے لبِ خشک پر
پِپڑیاں جم گئیں
گیت کے بول ہونٹوں سے گرنے لگے
خامشی چھا گئی
پاؤں بوجھل ہوۓ
جو بھی زادِ سفر تھا وہ لُٹتا رہا
اپنی آنکھوں سے برسات ہوتی رہی
درد بڑھتا رہا
درد سہتے رہے
ہم بھی کیا لوگ تھے
کیا سے کیا ہو گئے
جان پہچان کر اجنبی ہو گئے
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment