Friday, 4 September 2020

مرشد تمام شہر ستارہ شناس تھا

مرشد تمام شہر، ستارہ شناس تھا
مرشد ہماری زیست میں خوف و ہراس تھا
مرشد خموش رہ کے میں خوشیاں بکھیرتا
مرشد میں جب ہنسا تو زمانہ اداس تھا
مرشد اسی کو اوڑھ کے لکھی گئی غزل
مرشد جو چاندنی کی طرح بے لباس تھا
مرشد ہجومِ شہر کو نظمیں سنا گیا
مرشد مِرے لیے تو فقط اقتباس تھا
مرشد تمام شب میں خیالوں میں گم رہا
مرشد وہ ایک شخص محیطِ حواس تھا
مرشد فلاں فلاں نے ہمیں دکھ دئیے مگر
مرشد فلاں پہ ظلم کا اتنا قیاس تھا

حمزه نقوی

No comments:

Post a Comment