باتوں کی بہتات کا دکھ ہے ہم دونوں کو
ایک ادھوری بات کا دکھ ہے ہم دونوں کو
▓ آنے والا دن تاریکی لائے گا ▓
جانے والی رات کا دکھ ہے ہم دونوں کو
چھوٹی سی اک بات نے رستے بدلے تھے
اس کے مِرے قبیلے کی فطرت یکساں ہے
اک جیسے حالات کا دکھ ہے ہم دونوں کو
دکھ یہ ہے ہم جان پہ کھیل نہیں پائے
ورنہ کون سی مات کا دکھ ہے ہم دونوں کو
واحد اعجاز میر
No comments:
Post a Comment