خدا جانے کہ کب جانا پڑے گا
چلے جائیں گے جب جانا پڑے گا
اسے اب دیکھنا ہے آنکھ بھر کے
وہاں اب بے ادب جانا پڑے گا
سفر دستک پہ دستک دے رہا ہے
مجھے معلوم ہے جانے سے پہلے
یہی کہتے ہیں سب جانا پڑے گا
وہاں میلے میں کتنے لوگ ہوں گے
بدل کر اپنا ڈھب جانا پڑے گا
واحد اعجاز میر
No comments:
Post a Comment