Friday, 4 September 2020

خدا جانے کہ کب جانا پڑے گا

خدا جانے کہ کب جانا پڑے گا
چلے جائیں گے جب جانا پڑے گا
اسے اب دیکھنا ہے آنکھ بھر کے
وہاں اب بے ادب جانا پڑے گا
سفر دستک پہ دستک دے رہا ہے
نہیں جانا تھا اب جانا پڑے گا
مجھے معلوم ہے جانے سے پہلے
یہی کہتے ہیں سب جانا پڑے گا
وہاں میلے میں کتنے لوگ ہوں گے
بدل کر اپنا ڈھب جانا پڑے گا

واحد اعجاز میر

No comments:

Post a Comment