Tuesday, 9 November 2021

عذاب جان کا یا رب یوں امتحان نہ ہو

 عذابِ جان کا یا رب یوں امتحان نہ ہو

خزاں کا پھول بہاروں کے درمیان نہ ہو

زرا سی دیر کوئی مسکرا دیا ہے تو کیا

اب اس قدر بھی مِری جان خوشگمان نہ ہو

کہیں زمیں پہ کوئی راستہ بتا ایسا

کہ ساری عمر چلوں جس پر اور تھکان نہ ہو

یہ خاک ہنستی ہوئی یونہی آتی جاتی رہے

مِرے خدا کبھی ویراں یہ خاکدان نہ ہو

کہاں کہاں ہیں سبھی رفتگاں نظر آئیں

ہمارے بیچ میں حائل جو آسمان نہ ہو

وہ بن سنور کے بڑی دیر سے ہے پہلو نشیں

مجھے یہ ڈر ہے کہیں یہ مِرا گمان نہ ہو

میں سائے میں ہوں مگر پھر بھی جلتا رہتا ہوں

مِرا شجر بھی کہیں دھوپ کا مکان نہ ہو

دکھائی دے قد و قامت کے ساتھ تو خالد

کوئی نظر نہ پڑے اتنا بے نشان نہ ہو


خالد سجاد احمد

No comments:

Post a Comment