Friday, 9 April 2021

یوں غم ذات کے نصاب میں ہوں

 یوں غم ذات کے نصاب میں ہوں

گویا بے نام اک عتاب میں ہوں

تم کبھی جو کتاب زیست پڑھو

مجھ کو پڑھنا، ادھورے باب میں ہوں

کانچ کے گھر تو یوں ہی ٹوٹتے ہیں

پھر بھلا کیوں میں اضطراب میں ہوں

جس کو پڑھنا نہیں گوارہ تمہیں

بانجھ لفظوں کی اس کتاب میں ہوں

چھین لو سب بصارتیں میری

میں کھلی آنکھ کے عذاب میں ہوں

مجھ کو محسوس کر کے دیکھ ذرا

میں وہ خوشبو کہ جو گلاب میں ہوں


ماہ پارہ صفدر

No comments:

Post a Comment