یوں غم ذات کے نصاب میں ہوں
گویا بے نام اک عتاب میں ہوں
تم کبھی جو کتاب زیست پڑھو
مجھ کو پڑھنا، ادھورے باب میں ہوں
کانچ کے گھر تو یوں ہی ٹوٹتے ہیں
پھر بھلا کیوں میں اضطراب میں ہوں
جس کو پڑھنا نہیں گوارہ تمہیں
بانجھ لفظوں کی اس کتاب میں ہوں
چھین لو سب بصارتیں میری
میں کھلی آنکھ کے عذاب میں ہوں
مجھ کو محسوس کر کے دیکھ ذرا
میں وہ خوشبو کہ جو گلاب میں ہوں
ماہ پارہ صفدر
No comments:
Post a Comment