ہم جو کم مایہ ہیں زمانے میں
کیا کمی ہے تِرے خزانے میں
اک نظر اس کو دیکھ آئے تھے
ہوش اب تک نہیں ٹھکانے میں
ہم پریشان حال لوگوں سے
کون ملتا ہے اس زمانے میں
جب جوانی تھی ہوش ہی کب تھا
دیر کر دی ہے دل لگانے میں
ایک لمحہ جو ہم سے رُوٹھا تھا
عمر گزری اسے منانے میں
مولوی محمد اسلم
No comments:
Post a Comment