شامِ غم صبحِ مسرّت کی خبر ہونے تک
جانے کیا دل پہ گزر جائے سحر ہونے تک
جوشِ وحشت ہی سہی نغمۂ عشرت نہ سہی
شغل کچھ چاہیے تسکینِ جگر ہونے تک
جذبۂ 💖عشق رہینِ نگہِ شوق نہ ہو
دل پہ پابندیٔ آدابِ نظر ہونے تک💓
ہم ہی جانیں ہیں اسے اور کوئی کیا جانے
شام سے گزرے ہے جو دل پہ سحر ہونے تک
کتنے ہی زخم نئے دل میں ابھر آئیں گے
مندمل ذوقِ نظر زخمِ جگر ہونے تک
صبح دم آنے کا وعدہ تو کیا ہے اس نے
دل کا کیا حال بنے نورِ سحر ہونے تک
صوفی محمد ایوب زمزم
No comments:
Post a Comment