Friday, 2 April 2021

اک ادھورا سا خواب ہو جیسے

 اک ادھورا سا خواب ہو جیسے

زندگانی کتاب ہو جیسے

میری آنکھوں کے ریگزاروں میں

اک مسلسل سراب ہو جیسے

منتشر منتشر رہی ایسی

بکھرا بکھرا گلاب ہو جیسے

جاگتی آنکھ سے جو دیکھا تھا

تم مِرا وہ ہی خواب ہو جیسے

اس کی قامت پہ یہ گمان ہوا

بچپنے میں شباب ہو جیسے

جو دعا نیم شب میں مانگی تھی

اس دعا کا جواب ہو جیسے

ہاں لکھا تھا کتابِ دل پر جو

تم ہی وہ انتساب ہو جیسے

جس کو پی کر میں اپنے بس میں نہیں

تم وہ ظالم شراب ہو جیسے


ماہ پارہ صفدر

No comments:

Post a Comment