ہوا سے خوشبو کا کوئی پیام آیا نہیں
دیے جلائے مگر خوش خرام آیا نہیں
اسی کا متن تن و جاں کا کر رہا ہے حصار
وہ ایک خط جو ابھی میرے نام آیا نہیں
ابھی سے چاند کی خاطر دریجے کھولنا کیا
ابھی تو شام ہے، ماہِ تمام آیا نہیں
ہمارے ہاتھ بھی در کھٹکھٹانا جانتے ہیں
جو انتخاب ہو دل کا وہ بام آیا نہیں
دلوں کے سودے میں نقصان ہو بھی سکتا ہے
شعور تھا تو سہی میرے کام آیا نہیں
عابدہ تقی
No comments:
Post a Comment