آپ اپنی مثال ہوتا ہے
کوئی لمحہ کمال ہوتا ہے
آپ اپنی مثال ہوتا ہے
بخت اس کا کمال ہوتا ہے
کچھ لبوں سے جواب سن کر بهی
کوئی چہرہ سوال ہوتا ہے
اس کو پا کر بهی چین آتا نہیں
جس کو کهو کر ملال ہوتا ہے
وصل صدیوں کا ایک پل جیسا
ہجر کا پل بهی سال ہوتا ہے
علی معین
No comments:
Post a Comment