دل تجھے پیار کر گیا کیسے
دل پہ تُو وار کر گیا کیسے
تجھ سے کہنا یہ ہے کہ میرا غم
تجھ کو بیمار کر گیا کیسے
لوگ بس ایک قصہ سنتے ہیں
اس کا کردار مر گیا کیسے
کل تلک ہنس رہا تھا اور اب یوں
اس زمانے سے ڈر گیا کیسے
سانحہ ہے بہت بڑا کہ تُو
دل سے ایسے اتر گیا کیسے
ولید ولی
No comments:
Post a Comment