Sunday, 13 February 2022

اب وہ کہتے ہیں مدعا کہیے

 اب وہ کہتے ہیں مدعا کہیے

سوچتا ہوں کہ نقش کیا کہیے

زندگی زندگی سے روٹھ گئی

ہائے اب کس کو آشنا کہیے

ہے تغافل کا کیوں گلہ ان سے

آہِ سوزاں کو نارسا کہیے

تھرتھراہٹ حیا کی اس رخ پر

رقص نیرنگیٔ صبا کہیے

کھوئی کھوئی ہیں دھڑکنیں دل کی

پھر محبت کی ابتداء کہیے

اتفاقاً یہ آپ کا ملنا

ایک رنگین حادثہ کہیے

نا شناس الم ہو جو ہستی

سچ تو یہ ہے کہ بے مزا کہیے

دشمنِ جاں تو دشمنِ جاں ہے

غمگساروں کو نقش کیا کہیے


مہیش چندر نقش

No comments:

Post a Comment