Sunday, 13 February 2022

وہ تماشا آپ کی جادو بیانی سے ہوا

 وہ تماشا آپ کی جادو بیانی سے ہوا

ایک سناٹا ہماری بے زبانی سے ہوا

ایک پل میں اٹھ گئے پردے کئی اسرار سے

وہ نہ ہوتا جو ذرا سی بد گمانی سے ہوا

بڑھ گئی کچھ طاقتِ گفتار بھی رفتار سے

شور پیدا موج دریا میں روانی سے ہوا

اڑ گئی خوشبو ہوا میں دھوپ رنگت لے اڑی

فائدہ کیا خاک گل کی پاسبانی سے ہوا

جو بھی ہونا تھا ہوا لیکن یہ حیرت ہے شہاب

آپ جیسے مہرباں کی مہربانی سے ہوا


مصطفیٰ شہاب

No comments:

Post a Comment