Sunday, 13 February 2022

خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہے

 خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہے

زمانہ جس کے ہنر کی مثال دیتا ہے

وہ جب شعور کو لفظوں میں ڈھال دیتا ہے

عجیب سوچ نرالے خیال دیتا ہے

کوئی سمجھ نہ سکا اس کی دین کا اندازہ

کبھی خوشی کبھی رنج و ملال دیتا ہے

کبھی وہ زخم لگاتا ہے میرے سینے پر

کبھی وہ پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ہے

اسی نے دی ہے گناہ و ثواب کی تفریق

وہی شعور حرام و حلال دیتا ہے

مرے خدا اسے سنجیدگی عطا کر دے

وہ میری بات کو ہنس ہنس کے ٹال دیتا ہے

کبھی کنارے بھی کشتی بچا نہیں سکتے

کبھی بھنور بھی سفینے اچھال دیتا ہے

وہ کر گزرتا ہے اکثر مرا جنوں اعجاز

کہ جو خرد کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے 


اعجاز انصاری

No comments:

Post a Comment