دل شب کے در و بام سے گھبرانے لگا ہے
اک شخص مجھے شام سے یاد آنے لگا ہے
تصویرِ شب و روز کے سب رنگ ہیں دائم
اک رنگِ رفاقت ہے جو دھندلانے لگا ہے
گر تیرے رویے میں تغیّر نہیں کوئی
پھر تجھ سے مجھے خوف سا کیوں آنے لگا ہے
احساس کی لو ہے کہ ہوئی جاتی ہے مدھم
سر بھارِ ندامت سے جھکا جانے لگا ہے
ساون شبیر
No comments:
Post a Comment