ہر اک نفس کو آؤ کہ وحشت رسا کریں
ہم لوگ شب کو صورتِ شمع جلا کریں
کب تک رکھیں گے ہم یوں مسیحائی کا بھرم
کب تک ہر ایک زخم پہ مرہم رکھا کریں
تکمیلِ اہتمامِ تمنا تو کر چکے
اب آؤ مل کے شوق کا سجدہ ادا کریں
خود ساختہ خداؤں کا ہو ذکر کیا کہ وہ
ہر اک گلی کو شہر کی مقتل نما کریں
اک شخص کہ حیا ہے رگِ جاں سے بھی قریں
اس شخص کے خیال کو بے انتہا کریں
ثریا حیا
No comments:
Post a Comment