Sunday, 13 February 2022

ہر اک نفس کو آؤ کہ وحشت رسا کریں

 ہر اک نفس کو آؤ کہ وحشت رسا کریں

ہم لوگ شب کو صورتِ شمع جلا کریں

کب تک رکھیں گے ہم یوں مسیحائی کا بھرم

کب تک ہر ایک زخم پہ مرہم رکھا کریں

تکمیلِ اہتمامِ تمنا تو کر چکے

اب آؤ مل کے شوق کا سجدہ ادا کریں

خود ساختہ خداؤں کا ہو ذکر کیا کہ وہ

ہر اک گلی کو شہر کی مقتل نما کریں

اک شخص کہ حیا ہے رگِ جاں سے بھی قریں

اس شخص کے خیال کو بے انتہا کریں


ثریا حیا

No comments:

Post a Comment