اپنے اشعار کا عنوان کروں گا میں یار
ہجر کی آگ میں دن رات جلوں گا میں یار
قافیے اپنے ردیفیں بھی بنیں گی اپنی
شعر اپنی ہی زمینوں پہ کہوں گا میں یار
میں چُراؤں گا نہیں غزلیں کسی کی نظمیں
سرقہ بازوں کو بھی اب زہر لگوں گا میں یار
روز عنوان نیا زندگی میں ملتا ہے
کس طرح کِشتِ سخن پیاسی رکھوں گا میں یار
آپ کیوں سیخ پا ہوتے ہیں ابھی سے جانی
آپ کے ساتھ جیوں ساتھ مروں گا میں یار
کس طرح عالمِ وِجدان میں وہ رہتے ہیں
گر تصور بھی کیا خود سے ڈروں گا میں یار
جب وفادار نہیں زندگی تو پھر عاجز
جب تلک زندہ ہوں عزت سے جیوں گا میں یار
الیاس عاجز
No comments:
Post a Comment