Sunday, 13 February 2022

اپنے اشعار کا عنوان کروں گا میں یار

 اپنے اشعار کا عنوان کروں گا میں یار

ہجر کی آگ میں دن رات جلوں گا میں یار

قافیے اپنے ردیفیں بھی بنیں گی اپنی

شعر اپنی ہی زمینوں پہ کہوں گا میں یار

میں چُراؤں گا نہیں غزلیں کسی کی نظمیں

سرقہ بازوں کو بھی اب زہر لگوں گا میں یار

روز عنوان نیا زندگی میں ملتا ہے

کس طرح کِشتِ سخن پیاسی رکھوں گا میں یار

آپ کیوں سیخ پا ہوتے ہیں ابھی سے جانی

آپ کے ساتھ جیوں ساتھ مروں گا میں یار

کس طرح عالمِ وِجدان میں وہ رہتے ہیں

گر تصور بھی کیا خود سے ڈروں گا میں یار

جب وفادار نہیں زندگی تو پھر عاجز

جب تلک زندہ ہوں عزت سے جیوں گا میں یار


الیاس عاجز

No comments:

Post a Comment