Tuesday, 10 August 2021

ضمیر آدمیت کیا لہو کے دھار بکتے ہیں

 ضمیرِ آدمیت کیا لہو کے دھار بِکتے ہیں

فروغِ جسم نمائش میں کئی کردار بکتے ہیں

عقیدے ڈگمگاتے ہیں پلائے حسن کا ساقی

گلاسِ جام بھرتے ہی کئی دلدار بکتے ہیں

کدھر جاؤ گے بچ کر کے زمانہ مار ڈالے گا

یہاں پر ہر گلی میں ظلم کے ہتھیار بکتے ہیں

دریدہ جسم پر کپڑے وہاں کیونکر عطا ہوتا

جہاں دولت کی خوشبو ہو وہیں دستار بکتے ہیں

ہماری قوم و ملت پر جہالت ایسی چھائی ہے

اسی بنیاد پر لوگوں کے اب گھر بار بکتے ہیں

تقدس پردہ داری کا زمانے نے عجب لُوٹا

حیا کے آئینے بھی اب سر بازار بکتے ہیں

ادبیت فکر کی ہرگز تجارت میں نہیں کرتا

یہ کس نے کہہ دیا تم کو میرے اشعار بکتے ہیں

تحفظ اپنے ایماں کی رضا یہ سوچ کر کرنا

کہ اس دورِ حوادث میں بہت فنکار بکتے ہیں


علی رضا

No comments:

Post a Comment