کھیل جاری رہے
بے جھجک
بے خطر
بے دھڑک وار کر
میری گردن اڑا
اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر
چھین لے حسن و خوبی، انا، دلکشی
میری لفظوں میں لپٹا ہوا مال و زر
میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی
میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر
تجھ سے شکوہ نہیں
اے عدو میرے، میں تیری ہمدرد ہوں
تیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیں
تجھ سے کیسے کہوں
تجھ سے کیسے کہوں، قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں
(اور ہو بھی اگر، تیری کم مائیگی کا مدوا نہیں)
ہاں مگر تیری دلجوئی کے واسطے
میری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے
(تیری دانست میں)
کھیل جاری رہے
نینا عادل
No comments:
Post a Comment