Tuesday, 10 August 2021

کھیل جاری رہے

 کھیل جاری رہے


بے جھجک

بے خطر

بے دھڑک وار کر

میری گردن اڑا

اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر

چھین لے حسن و خوبی، انا، دلکشی

میری لفظوں میں لپٹا ہوا مال و زر

میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی

میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر

تجھ سے شکوہ نہیں

اے عدو میرے، میں تیری ہمدرد ہوں

تیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیں

تجھ سے کیسے کہوں

تجھ سے کیسے کہوں، قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں

(اور ہو بھی اگر، تیری کم مائیگی کا مدوا نہیں)

ہاں مگر تیری دلجوئی کے واسطے

میری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے

(تیری دانست میں)

کھیل جاری رہے


نینا عادل

No comments:

Post a Comment