Friday, 6 August 2021

جب سے غیروں سے مراسم کو بڑھایا اس نے

 جب سے غیروں سے مراسم کو بڑھایا اس نے

دل کو رہ رہ کے میرے روز جلایا اس نے

دیکھ کر خواب کوئی جیسے بھلا دیتا ہے

ٹھیک اسی طرح مجھے دل سے بھلایا اس نے

میں نے ہر بار منانے میں پہل کی جس کو

میں جو رُوٹھا تو مجھ کو نہ منایا اس نے

کاش کہ دل بھی ملا لیتا کبھی وہ دل سے

ہاتھ ویسے تو  کئی بار ملایا اس نے

اس طرح کوئی ستاتا ہے بھلا اپنوں کو

جس طرح مجھ کو ہے مدت سے ستایا اس نے

جس کے دامن کو سدا میں نے بھرا خوشیوں سے

کیا بتاؤں کہ مجھے کتنا رُلایا اس نے


عابد علی عابد

No comments:

Post a Comment