جب سے غیروں سے مراسم کو بڑھایا اس نے
دل کو رہ رہ کے میرے روز جلایا اس نے
دیکھ کر خواب کوئی جیسے بھلا دیتا ہے
ٹھیک اسی طرح مجھے دل سے بھلایا اس نے
میں نے ہر بار منانے میں پہل کی جس کو
میں جو رُوٹھا تو مجھ کو نہ منایا اس نے
کاش کہ دل بھی ملا لیتا کبھی وہ دل سے
ہاتھ ویسے تو کئی بار ملایا اس نے
اس طرح کوئی ستاتا ہے بھلا اپنوں کو
جس طرح مجھ کو ہے مدت سے ستایا اس نے
جس کے دامن کو سدا میں نے بھرا خوشیوں سے
کیا بتاؤں کہ مجھے کتنا رُلایا اس نے
عابد علی عابد
No comments:
Post a Comment