Wednesday, 10 March 2021

دل کا معاملہ نگہ آشنا کے ساتھ

دل کا معاملہ نِگہِ آشنا کے ساتھ

ایسے ہے جیسے رابطۂ گل صبا کے ساتھ

دیکھو تو پیچ و تاب کی صورت کہ مل گئی

شامِ فراق بھی تِری زلفِ دو تا کے ساتھ

یہ کیا بہار ہے کہ دکھائی گئی مجھے

شعلوں کی آنچ بھی گلِ رنگیں قبا کے ساتھ

یہ کیا طلسم ہے کہ سنایا گیا مجھے

سازِ شکستِ دل تِری آوازِ پا کے ساتھ

اے دوستو! یہی ہے قیامت کہ روزِ حشر

ہم بھی جگائے جائیں گے خلقِ خدا کے ساتھ

گلشن میں آئی پیرہنِ رنگ بن گئی

وہ موجِ خوں کہ چہرہ کشا تھی حنا کے ساتھ

عابد بیانِ جلوۂ ناگاہ کیا کروں

خوبی ادا کے ساتھ ہے شوخی حیا کے ساتھ


عابد علی عابد

No comments:

Post a Comment