Sunday, 6 June 2021

وہ بیدار راتوں میں کم خواب عالم

وہ بیدار راتوں میں کم خواب عالم

کسی کے تصور میں کھوئے ہوئے ہم

خیالوں پہ چھایا ہوا نور پیکر

شب مہ سے روشن زیادہ شب غم

وہی روئے زیبا وہی زلف برہم

ہیں اسباب برہم زن ہر دو عالم

خزاؤں کا عالم نہ پوچھو کہ یاں تو

بہاریں بھی آتی ہیں با چشم پُر نم

نگاہوں میں حسرت ہے داماندگی ہے

کبھی وہ بھی دن تھے کہ ہم تم تھے تم ہم

نہیں ہے جو مجھ کو کوئی فکر دنیا

بہت ہیں کہ جن کو ہے اس بات کا غم

خوشی اور غم کا مرقع ہے دنیا

گلوں کی ہنسی پر گرا اشک شبنم

مساوات جمہوریت میں کہاں ہے

کہیں ہے عنایت زیادہ کہیں کم

لب و رخ کی باتیں تفنن ہیں رضواں

کیا ہے زمانے کی گردش نے بے دم


رضوان اللہ

No comments:

Post a Comment