وہ بیدار راتوں میں کم خواب عالم
کسی کے تصور میں کھوئے ہوئے ہم
خیالوں پہ چھایا ہوا نور پیکر
شب مہ سے روشن زیادہ شب غم
وہی روئے زیبا وہی زلف برہم
ہیں اسباب برہم زن ہر دو عالم
خزاؤں کا عالم نہ پوچھو کہ یاں تو
بہاریں بھی آتی ہیں با چشم پُر نم
نگاہوں میں حسرت ہے داماندگی ہے
کبھی وہ بھی دن تھے کہ ہم تم تھے تم ہم
نہیں ہے جو مجھ کو کوئی فکر دنیا
بہت ہیں کہ جن کو ہے اس بات کا غم
خوشی اور غم کا مرقع ہے دنیا
گلوں کی ہنسی پر گرا اشک شبنم
مساوات جمہوریت میں کہاں ہے
کہیں ہے عنایت زیادہ کہیں کم
لب و رخ کی باتیں تفنن ہیں رضواں
کیا ہے زمانے کی گردش نے بے دم
رضوان اللہ
No comments:
Post a Comment