Sunday, 6 June 2021

بات کرنی ہے اگر پھر نئے امکان کی یار

 بات کرنی ہے اگر پھر نئے اِمکان کی یار

پہلے تفسیر پڑھو میر کے دیوان کی یار

شاہزادے سہی تم یار بھی تو ہو میرے

کبھی عزت بھی تو کر لیتے ہیں انسان کی یار

میری گُفتار سے کردار کا اندازہ کر

مجھ سے مت پوچھ مِرے مذہب و ایمان کی یار

دل گنوایا کہ مجھے خود کو گنوانا تھا روا

آگ لگ جائے تو کیا فکر ہو سامان کی یار

کبھی آنکھوں سے، کبھی دل سے اُمڈ آتا ہے

ایک صورت تو نہیں ہوتی ہے طوفان کی یار

کوئی تلقین، مقدر بھی بدل سکتی ہے

ہر صدا رد نہیں کرتے دلِ نادان کی یار

لفظ پہلا بھی محبت ہی ہے اور آخری بھی

کیا ضرورت ہے اب اس نظم پہ عنوان کی یار

عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے خاور

کبھی سلطان کی مانو، کبھی دربان کی یار


خاور اعجاز

No comments:

Post a Comment