Sunday, 6 June 2021

آنکھوں سے تیرے خواب کا مادہ خرید لوں

 آنکھوں سے تیرے خواب کا مادہ خرید لوں

اشکوں کے انحراف سے دجلہ خرید لوں

باہر سے کوئی دیکھنے اس کو نہ آ سکے

جاتا ہوا میں شہر کو رستہ خرید لوں

ممکن اگر ہو سانس کی زنجیر کھینچ کر

چھُٹتی عمر کی ریل کا ڈبہ خرید لوں

مانگے اگر تُو منتیں میرے لیے فقط

تیرے لیے میں پیر کا روضہ خرید لوں

پہلی ہے تم سے آج ملاقات یہ مِری

اچھا سا کوئی دیکھ کے تحفہ خرید لوں

عمرِ رواں کو لاؤں جوانی کے موڑ پر

چلتا ہوا جو وقت کا پہیہ خرید لوں

ٹوٹی ہوئی اک آہ کی تعمیر کے لیے

آذر! پرانی یاد کا ملبہ خرید لوں


فہیم الرحمٰن آذر

No comments:

Post a Comment