آنکھوں سے تیرے خواب کا مادہ خرید لوں
اشکوں کے انحراف سے دجلہ خرید لوں
باہر سے کوئی دیکھنے اس کو نہ آ سکے
جاتا ہوا میں شہر کو رستہ خرید لوں
ممکن اگر ہو سانس کی زنجیر کھینچ کر
چھُٹتی عمر کی ریل کا ڈبہ خرید لوں
مانگے اگر تُو منتیں میرے لیے فقط
تیرے لیے میں پیر کا روضہ خرید لوں
پہلی ہے تم سے آج ملاقات یہ مِری
اچھا سا کوئی دیکھ کے تحفہ خرید لوں
عمرِ رواں کو لاؤں جوانی کے موڑ پر
چلتا ہوا جو وقت کا پہیہ خرید لوں
ٹوٹی ہوئی اک آہ کی تعمیر کے لیے
آذر! پرانی یاد کا ملبہ خرید لوں
فہیم الرحمٰن آذر
No comments:
Post a Comment