Sunday, 2 May 2021

مسئلوں کے اس طرح اب حل نکالے جائیں گے

 مسئلوں کے اس طرح اب حل نکالے جائیں گے

آئینوں کے شہر میں پتھر اُچھالے جائیں گے

ہم‌ نے سوچا بھی نہ تھا آئے گا ایسا وقت بھی

ضابطے آئین کے سب توڑ ڈالے جائیں گے

مُفلسی بن جائے گی اک دن بغاوت کا سبب

ہم اگر یوں ہی فقط وعدوں پہ ٹالے جائیں گے

کس کا کتنا ظرف ہے ہو جائے گا یہ فیصلہ

بھیڑ میں چاندی کے سِکے جب اُچھالے جائیں گے

میں نے دیکھا ہے پڑوسی بھوک سے مرتے ہوئے

میرے منہ میں کس طرح یہ تر نوالے جائیں گے

اچھے دن بھی آئیں گے مل جائے گا سب کچھ تمہیں

اس سے پہلے ہاتھ لیکن کاٹ ڈالے جائیں گے

شہرتیں اتنی ہی ساغر بڑھ کے چُومیں گی قدم

جس قدر بھی آپ پر پتھر اُچھالے جائیں گے


ریاض ساغر

No comments:

Post a Comment