Friday, 7 May 2021

لو پکڑ سکتے نہیں ہاتھ جلا بیٹھتے ہیں

 لُو پکڑ سکتے نہیں ہاتھ جلا بیٹھتے ہیں

اور پیشانی پہ پھر داغ سجا بیٹھتے ہیں

مجھ کو اپنے ہی قبیلے کا سمجھ کر اکثر

کچھ پرندے مِری دیوار پہ آ بیٹھتے ہیں

رات سُنسان ہے اور ایک ہی ہوٹل ہے کھُلا

رات کٹتی نہیں، کچھ دیر کو آ، بیٹھتے ہیں

میں پکھی واس ہوں، کل ڈیرہ اُٹھا لوں گا سو اب

آ، مِری جان، کوئی اپنی سُنا، بیٹھتے ہیں

اک پچھل پائی کو سوئے ہوئے دیکھا ہے وہاں

ہم کہ جس پیڑ کی چھاؤں میں سدا بیٹھتے ہیں


ریاض ساغر

No comments:

Post a Comment