Friday, 7 May 2021

ہم وہ بے درد ہیں

 ہم وہ بے درد ہیں​

خواب گنوا کر بھی جنہیں نیند آ جاتی ہے​

سوچ سوچ کر بھی​

جن کے ذہنوں کو کچھ نہیں ہوتا​

ٹُوٹ پھُوٹ کر بھی​

جن کے دل دھڑکنا یاد رکھتے ہیں

​ہم وہ بے درد ہیں​

ٹُوٹ ٹُوٹ کر رونے کی کوشش میں جو

بات بے بات مُسکراتے ہیں 

شام سے پہلے مر جانے کی خواہش میں جو

جیتے ہیں اور 

جیتے چلے جاتے ہیں

حادثاتِ جہاں کے ہاتھوں ہم

کس قدر ٹُوٹ ٹُوٹ بکھرے ہیں

اب تو اکثر گُماں ہوتا ہے

ہم زمیں پر بشر نہیں بلکہ

آسماں کی چٹان کے نیچے

بسنے والے بونے ہیں

ہم تو تقدیر کے کھلونے ہیں

ہم وہ بے درد ہیں ​

جن کے آنسو آنکھوں کا رستہ بھُول جاتے ہیں​

شام سے پہلے مر جانے کی آس میں جو​

جیتے ہیں اور جیتے ہی چلے جاتے ہیں​


سعدیہ غالب

No comments:

Post a Comment