عجیب لوگ ہیں بارش ہوا سے ڈرتے ہیں
خدا سے ڈرتے نہیں ہیں وبا سے ڈرتے ہیں
بہار آئی ہوئی ہے سنہری دھوپ بھی ہے
گلاب کھلتے ہیں لیکن صبا سے ڈرتے ہیں
طویل چپ ہے مگر شور اس قدر ہے کہ اب
کوئی بلائے تو اس کی صدا سے ڈرتے ہیں
اسی لیے تو نصابوں میں اس کا ذکر نہیں
جو اقتدار میں ہیں کربلا سے ڈرتے ہیں
دیا جلا کے جو خالی مکاں میں چھوڑ گئے
ہوا چلے تو ہوا کی ادا سے ڈرتے ہیں
جو اہلِ عجز ہیں وہ معجزے کے قائل ہیں
جو پُر غرور ہیں معجز نما سے ڈرتے ہیں
ریاض ساغر
No comments:
Post a Comment