Saturday, 10 July 2021

یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا

 یہ فرقتوں میں لمحۂ وصال کیسے آ گیا

محبتوں میں پھر نیا ابال کیسے آ گیا

جسے جہاں کے مشغلوں میں اپنا ہوش بھی نہ تھا

اچانک آج اسے مِرا خیال کیسے آ گیا

ابھی تلک تو میرے سارے زخم تھے ہرے بھرے

یکایک ان کو کارِ اندمال کیسے آ گیا

جدائی کا بس ایک پل گراں تھا زندگی پہ جب

تو درمیان بحر ماہ و سال کیسے آ گیا

ابھی تلک تھیں وقت کی طنابیں اس کے ہاتھ میں

عدم فراغتوں کا پھر سوال کیسے آ گیا

مِرے ذرا سے درد پر تڑپ تھی جس کی دیدنی

اسے ستم گری کا یہ کمال کیسے آ گیا

ندیم اپنی چاہتوں پہ ناز تھا تمہیں بہت

تو پھر تمہارے عشق پر زوال کیسے آ گیا


فرحت ندیم ہمایوں

No comments:

Post a Comment