جمال صبح کے تیور میں بات کرتا ہے
خدا بھی ساتھ مِرے سیر کو نکلتا ہے
حضور چھوڑیے شعری مبالغے ہیں سب
بھلا چراغ بھی کوئی ہوا میں جلتا ہے
ہم اپنے اپنے کناروں میں ڈوب جاتے ہیں
ہمارے بیچ سمندر انا کا پڑتا ہے
غمِ حیات تِرے آخری سٹیشن پر
تھکا تھکا سا مسافر کوئی اترتا ہے
پرانے گھر کو ہے دکھ بھول جانے کا ارشد
میں آج سمجھا ہوں کیوں پینٹ روز جھڑتا ہے
ارشد مرزا
No comments:
Post a Comment