مجھ کو رشتے کی اگن دل سے بجھانے مت دو
بات بے بات مجھے عشق کے طعنے مت دو
میں اگر لوٹ گئی نا تو نہیں آؤں گی
ذات میں قید رکھو دھیان سے جانے مت دو
لفظ تو دور مجھے لہجے بھی کھا جاتے ہیں
میرے اپنوں کو بھی تم پاس میں آنے مت دو
میں نے سیکھی ہے بغاوت یہ انا والوں سے
کوئی انگلی جو اٹھائے تو اٹھانے مت دو
روشنی اتنی عطا ہو کہ ہو جتنی طاقت
زخمی آنکھوں کو سنو خواب سہانے مت دو
ہاتھ ٹوٹے ہیں مِرے دھاگا الجھ جائے گا
روک لو مجھ کو کوئی چرخا گھمانے مت دو
حق یہ اس کا ہے فقط اس کا کہ جو قاتل ہے
میّتِ زویا کسی کو بھی اٹھانے مت دو
زویا شیخ
No comments:
Post a Comment