Saturday, 6 February 2021

مجھ کو رشتے کی اگن دل سے بجھانے مت دو

 مجھ کو رشتے کی اگن دل سے بجھانے مت دو

بات بے بات مجھے عشق کے طعنے مت دو

میں اگر لوٹ گئی نا تو نہیں آؤں گی

ذات میں قید رکھو دھیان سے جانے مت دو

لفظ تو دور مجھے لہجے بھی کھا جاتے ہیں

میرے اپنوں کو بھی تم پاس میں آنے مت دو

میں نے سیکھی ہے بغاوت یہ انا والوں سے

کوئی انگلی جو اٹھائے تو اٹھانے مت دو

روشنی اتنی عطا ہو کہ ہو جتنی طاقت

زخمی آنکھوں کو سنو خواب سہانے مت دو

ہاتھ ٹوٹے ہیں مِرے دھاگا الجھ جائے گا

روک لو مجھ کو کوئی چرخا گھمانے مت دو

حق یہ اس کا ہے فقط اس کا کہ جو قاتل ہے

میّتِ زویا کسی کو بھی اٹھانے مت دو


زویا شیخ

No comments:

Post a Comment