دل دھڑکتا ہے ان کے پیار کے ساتھ
ہم تو جیتے ہیں ذکرِ یار کے ساتھ
ان کی یادوں میں ایسے کھوئے ہیں
دن گزرتے کہاں بہار کے ساتھ
دل کی دنیا مری بدل سی گئی
مہک دیکھی جو اپنے یار کے ساتھ
مجھ کو محفل میں کہتے ہیں اکثر
کون تجھ کو ملا قرار کے ساتھ
لوگ دنیا کی باتیں کرتے ہیں
چین ملتا ہے اپنے یار کے ساتھ
میرے دل پے اثر سا ہوتا ہے
وہ جو آتے ہیں اس خمار کے ساتھ
ان کے کہنے پے میں نے رکھا قدم
اس محبت میں اک قرار کے ساتھ
یار کا لمس کتنا پیارا ہے
بولا ارشد بڑے وقار کے ساتھ
ارشد مرزا
No comments:
Post a Comment