جو میرے دل میں ہے ملنے کی آس رہنے دو
کسی کی دید کی آنکھوں میں پیاس رہنے دو
یقیں کی بات کرو، اب قیاس رہنے دو
نظر میں ضوفشاں سچ کا لباس رہنے دو
ہمارے باغ کے سب پھول پھل تمہارے ہیں
ہمارے واسطے بس خشک گھاس رہنے دو
نظر جھکائے شجر ہیں کہ بے لباس ہوئے
خزاں کی زد ہے انہیں بے لباس رہنے دو
تمہارے جسم کی خوشبو مِری غزل میں رہے
مجھے ہوا کی طرح اپنے پاس رہنے دو
جو درد دل میں چھپائے ہوئے تھے برسوں سے
وہ بے لباس ہیں اب بے لباس رہنے دو
شمیم ہم کو مسرت تو ہے عزیز، مگر
بضد ہے دل کہ تم اس کو اداس رہنے دو
شمیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment