Monday, 8 November 2021

جو میرے دل میں ہے ملنے کی آس رہنے دو

 جو میرے دل میں ہے ملنے کی آس رہنے دو

کسی کی دید کی آنکھوں میں پیاس رہنے دو

یقیں کی بات کرو، اب قیاس رہنے دو

نظر میں ضوفشاں سچ کا لباس رہنے دو

ہمارے باغ کے سب پھول پھل تمہارے ہیں

ہمارے واسطے بس خشک گھاس رہنے دو

نظر جھکائے شجر ہیں کہ بے لباس ہوئے

خزاں کی زد ہے انہیں بے لباس رہنے دو

تمہارے جسم کی خوشبو مِری غزل میں رہے

مجھے ہوا کی طرح اپنے پاس رہنے دو

جو درد دل میں چھپائے ہوئے تھے برسوں سے

وہ بے لباس ہیں اب بے لباس رہنے دو

شمیم ہم کو مسرت تو ہے عزیز، مگر

بضد ہے دل کہ تم اس کو اداس رہنے دو


شمیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment