Monday, 8 November 2021

اک اذیت ناک منظر عمر بھر رہنے دیا

 اک اذیت ناک منظر عمر بھر رہنے دیا

گھر جلایا اس نے سب کا میرا گھر رہنے دیا

بادبانِ یاد کی تازہ ہوا آنے تو دو

ہم نے دریا میں بھی اک پانی کا گھر رہنے دیا

لوٹ کر آئیں گے اک دن اس کی پُرشش کیلئے

اس کے دروازے پہ سامانِ سفر رہنے دیا

چھوڑ آئے مجھ کو وہ ویرانۂ جاں میں کہیں

اپنی تمثیلات تا حد< نظر رہنے دیا

کیسی آزادی ملی ہے عمر بھر کے واسطے

میرے ہی پاؤں میں زنجیرِ سفر رہنے دیا


شکیب ایاز

No comments:

Post a Comment