Sunday, 7 November 2021

غمخوار مل گیا تو سنبھلنے لگی ہے شام

 غمخوار مل گیا تو سنبھلنے لگی ہے شام

میری رفاقتوں میں بہلنے لگی ہے شام

سورج کو قہر سے یہ چھپی تھی یہیں کہیں

جب ڈھل گیا ہے دن تو ٹہلنے لگی ہے شام

دوشیزۂ شفق کا ہے چہرہ حیا سے سرخ

آنچل میں اس کے چھپ کے مچلنے لگی ہے شام

نگلے نہ اس کو قبر کی صورت سیاہ رات

اس غم سے بوند بوند پگھلنے لگی ہے شام

اس کو اداسیوں کے سوا جب نہ کچھ ملا

میرے غریب خانے سے ٹلنے لگی ہے شام

جب شہر دل میں تھی تو بڑی خوشگوار تھی

شہر ہوس میں آئی تو جلنے لگی ہے شام

دیوار و در کی ختم ہوئی اب چہل پہل

خانہ بدوش گھر سے نکلنے لگی ہے شام

کیا جانے اس کا مجھ سے تعلق ہے کیا شمیم

کیوں میرے آس پاس ٹہلنے لگی شے شام


شمیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment