غمخوار مل گیا تو سنبھلنے لگی ہے شام
میری رفاقتوں میں بہلنے لگی ہے شام
سورج کو قہر سے یہ چھپی تھی یہیں کہیں
جب ڈھل گیا ہے دن تو ٹہلنے لگی ہے شام
دوشیزۂ شفق کا ہے چہرہ حیا سے سرخ
آنچل میں اس کے چھپ کے مچلنے لگی ہے شام
نگلے نہ اس کو قبر کی صورت سیاہ رات
اس غم سے بوند بوند پگھلنے لگی ہے شام
اس کو اداسیوں کے سوا جب نہ کچھ ملا
میرے غریب خانے سے ٹلنے لگی ہے شام
جب شہر دل میں تھی تو بڑی خوشگوار تھی
شہر ہوس میں آئی تو جلنے لگی ہے شام
دیوار و در کی ختم ہوئی اب چہل پہل
خانہ بدوش گھر سے نکلنے لگی ہے شام
کیا جانے اس کا مجھ سے تعلق ہے کیا شمیم
کیوں میرے آس پاس ٹہلنے لگی شے شام
شمیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment