سارے ثواب تیری خطاؤں میں رکھ دئیے
ہم نے دِیے جلا کے ہواؤں میں رکھ دئیے
ہم نے تمہاری پیاس کے اس ریگزار میں
آنسو اٹھا کے سارے گھٹاؤں میں رکھ دئیے
ساقی!! تیری نگاہِ تصرّف کی خیر ہو
صحرائے بے کنار بھی چھاؤں میں رکھ دئیے
گھبرا کے تیرے ہجر کے رنج و ملال سے
ارمان دل کے جلتی چتاؤں میں رکھ دئیے
دیکھے ہیں بے لباس وہ سارے جہان نے
تُو نے جو جسم آج قباؤں میں رکھ دئیے
زریں منور
No comments:
Post a Comment