Saturday, 18 September 2021

یہ تری راہ میں جیتے ہوئے ہارے ہوئے دن

 یہ تِری راہ میں جیتے ہوئے ہارے ہوئے دن

کب گزرتے ہیں تِرے ساتھ گزارے ہوئے دن

ایک خوشبو کی طرح رکھے ہیں الماری میں

تیرے پہنے ہوئے دن تیرے اتارے ہوئے دن

جتنے پُر کیف زمانے ہیں تمہارا حصہ

جتنے اشکوں سے بھرے ہیں وہ ہمارے ہوئے دن

دونوں ملتے ہیں کسی شام کے سائے میں کہیں

تیری بکھری ہوئی شب تیرے سنوارے ہوئے دن


اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment