آندھیوں سے بادباں جب پھٹ گئے
ہم تلاطم کے مقابل ڈٹ گئے
جگمگاتے کس طرح وہ آئینے
موسموں کی گرد سے جو اٹ گئے
دائرہ کتنا بڑھایا جائے اب
رقص کرنے والے پاؤں کٹ گئے
پتہ پتہ رُت بکھرنے لگ گئی
جن کے سائے گھٹ گئے، وہ کٹ گئے
پاوں میں کیا ڈگمگائی ہے زمین
اپنی اپنی راہ سے سب ہٹ گئے
اب کہاں پہچان ممکن ہے شفیق
آئینہ ٹوٹا تو ہم بھی بٹ گئے
شفیق آصف
No comments:
Post a Comment