یہ کارِ دل زدگاں دشت بھر کِیا جائے
شکستِ خواب سے آگے سفر کیا جائے
متاعِ حرف نوردی ہی رہ گئی ہے، سو اب
یہی خریطۂ خاشاک زر کیا جائے
الجھتی کیوں نہیں سانسیں مِرے وجود کے ساتھ
مفاہمت کو ذرا مختصر کیا جائے
حدودِ وقت کے اس پار خواب عنقا ہیں
سو ایک واہمۂ شب بسر کیا جائے
تُو جا چکا ہے، تجھے چاہنے سے کیا حاصِل
تِرے فراق میں کیوں دیدہ تر کیا جائے
راغب اختر
No comments:
Post a Comment