جھکی پلکوں کے پیچھے اک سمندر دیکھ سکتی ہوں
تِرے جذبات کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں
تِرا جانا ہوا ہے طے، تجھے اب روکنا بھی کیا
مگر کیسے تِرے جانے کا منظر دیکھ سکتی ہوں
اگر چاہے تُو مجھ پر کھول سکتا ہے کتابِ دل
وگرنہ میں تِرے لہجے کو پڑھ کر دیکھ سکتی ہوں
وہی میری سہیلی اب مِرے رونے پہ چیخے گی
جو کہتی تھی تِری آنکھوں کے اندر دیکھ سکتی ہوں
مجھے اب تک تمہاری رہبری پر ہی بھروسا ہے
میں ویسے تو پڑے میلوں کے پتھر دیکھ سکتی ہوں
زارا قاسمی
No comments:
Post a Comment