جل رہا ہے خود میں جو صحرا ہوں میں
اور سمجھتے ہیں سبھی دریا ہوں میں
سب سمجھتے ہیں مجھے پتھر صفت
جبکہ سب کچھ دیکھتا سنتا ہوں میں
کوئی منزل بھی نہیں ہے ذہن میں
کیوں سفر پر پھر بھی آمادہ ہوں میں
فکر میں کیوں مبتلا ہے میرا عکس
میں جو آئینہ ہوں آئینہ ہوں میں
دے رہے ہیں کیوں مجھے آواز لوگ
دیکھ لیں آ کر جہاں رکھا ہوں میں
بخش دے یہ دنیا کتنے بھی لقب
باپ کی خاطر فقط بیٹا ہوں میں
جانے کب کا مر گیا خود کے لیے
اب تو بچوں کے لیے زندہ ہوں میں
شاہد جمال
No comments:
Post a Comment