Wednesday, 5 October 2022

کب مدح گروہان خود آرا کے لیے ہے

 کب مدحِ گروہانِ خود آرا کے لیے ہے

رونا یہ مِرا، حلقۂ دانا کے لیے ہے

اب کیا وہاں سینے سے ہٹے کوہِ مصیبت

ہونا ہی جہاں وحشت و ایذا کے لیے ہے

پڑ جاتے ہیں بل پیٹ میں ہنستے ہوئے جس سے

یہ ڈھونگ بھی اک درد کے اِخفا کے لیے ہے

کیا اور اسے چاہیے حاکم سے سہولت

یہ روز کا رونا جو رعایا کے لیے ہے

پچھتاوے کے دو آنسو بہا دوں گا اسی میں

جیسے مِری نیکی کسی دریا کے لیے ہے

اک آس میں برباد ہُوا آج ہمارا

اور کل بھی کسی وعدۂ فردا کے لیے ہے

دیتا ہے بہت اپنی ہی نیکی کی مثالیں

تو کیا یہ تِرا دین بھی دنیا کے لیے ہے

شاکر جو نظر آئے وہ عیار تو پوچھوں

کیا مشورہ اب اس دلِ سادہ کے لیے ہے


عدیل شاکر

No comments:

Post a Comment