کسی کی مرضی سے تھوڑی ٹھہرنا پڑتا ہے
میں دشت دیکھوں تو پاؤں میں جھرنا پڑتا ہے
میں روز کپڑے بدلتا ہوں، پَف نکالتا ہوں
تِرے لیے مجھے کتنا سنورنا پڑتا ہے
زمیں کے گولے سے باہر نکل نہیں سکتے
خلا میں جا کے بھی نیچے اترنا پڑتا ہے
مقام بیٹھے بٹھائے ملا نہیں کرتا
الگ تھلگ سا کوئی کام کرنا پڑتا ہے
دیارِ عشق میں چمڑی اُدھیڑی جاتی ہے
نمک کی کان سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے
کمینے لوگوں سے عزت بچانا پڑتی ہے
تمہارا گھر مِرے رستے میں ورنہ پڑتا ہے
یہ میرے پاؤں کا چکر بھی کیا مصیبت ہے
کہ بار بار مجھے بیگ بھرنا پڑتا ہے
عباس قمر
No comments:
Post a Comment