Thursday, 3 March 2022

درد کا تیرے نکھارا میں ہوا

 درد کا تیرے نکھارا میں ہوا​

اس لیے لوگوں کو پیارا میں ہوا​

چودھویں کے چاند کی تشبیہ تو​

اور غم کا استعارہ میں ہوا​

کر رہا تھا درد کو یک جا کوئی​

غور سے دیکھا تو سارا میں ہوا

​اب کہاں بھٹکے کا غم یہ غم نہ کر​

آسمان سے ہوں اتارا میں ہوا​

سینکڑوں غم تب سے میرے ہو گئے​

جب سے میری جان تمہارا میں ہوا​

چل دیا وہ چھوڑ کر ایسے مجھے​

جیسے دریا وہ، کنارہ میں ہوا​

محو حیرت ہوں جو دشمن جان کے تھے​

آنکھ کا ان کی بھی تارا میں ہوا


نعیم قیصر

No comments:

Post a Comment