تمہارے نام کی مدھم سی روشنی رکھی
تمام عمر یونہی گھر میں چاندنی رکھی
مِرے خیال کی دنیا میں کوئی آتا ہے
اسی کے واسطے لہجے میں چاشنی رکھی
مجھے خبر ہے تِری ذات میں ترنم ہے
تبھی تو شعر کے لہجے میں راگنی رکھی
فریب دینے لگا ہے نظر کا پیمانہ
دلِ خراب نے آنکھوں سے دشمنی رکھی
مجھے خبر تھی مِرے پیر میں مسافت ہے
سو میں نے آنکھ میں آنسو کی اوڑھنی رکھی
اگرچہ یاد نہیں ہے مگر نبھائیں گے
پرانی بات پہ سالوں کی دشمنی رکھی
یہ اہتمام ہے سارا کسی سے ملنے کا
قبائے شوق بھی پھولوں نے کاسنی رکھی
ہے محوِ رقص کوئی آج چشمِ گریہ میں
کہ ان سمندروں میں بن کی مورنی رکھی
جلا دیا ہے نیا دیپ آج صحرا میں
ہوا کے ہاتھ میں الفت کی روشنی رکھی
نیلم بھٹی
No comments:
Post a Comment